ھفتہ 17 اپریل 2021

شوگر کنٹرول کر نا اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ شوگر کے پھوڑے ایک کپ پانی سے ٹھیک۔

حالانکہ اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ صحت بخش غذا، باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی، وزن کو نارمل رکھنے اور تمباکو نوشی سے اجتناب جیسی عادات سے ذیابیطس کے بہت سارے کیسز اور ان کی پیچیدگیوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، مگر زیادہ تر ان عادات پر عمل ہی نہیں کیا جاتا۔تحقیقات بتاتی ہیں کہ جن بچوں میں ذیابیطس کا خطرہ لاحق رہتا ہے ان میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں میں ذیابیطس سے ہونے والی 80 فیصد سے زائد اموات کم اور متوسط آمدن والے ملکوں میں ہوئیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں موٹاپے، ذیابیطس، کینسر اور امراض قلب جیسی بیماریوں میں بڑی سطح پر اضافہ ہوا ہے جبکہ ان امراض کو پہلے مغربی طرز زندگی کی بیماریوں کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔

اس کثیر اضافے کے پیچھے بڑی وجہ دباؤ اور زیادہ غیر متحرک طرز زندگی اور اس کے ساتھ ساتھ جسمانی سرگرمی جیسے واکنگ اور سائیکلنگ میں کمی ہونا ہے۔ ذیابیطس مرض میں اضافے کا ایک اور اہم عنصر روایتی اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے بجائے زیادہ کیلوریز والی خوراک کا استعمال اور فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔پاکستان میں لوگوں اور خاندانوں میں ذیابیطس اور اس کی پیچیدگیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ جن کی وجہ سے ہماری معیشت اور ہمارے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ذیابیطس سے مقابلہ کرنے کے لیے عوامی اور نجی سیکٹر کی سطح پر پالیسیاں اور پارٹنر شپس بنانے کی ضرورت ہے۔

جن کے ذریعے عوام کے درمیان آگاہی فراہم کرنے کے لیے صحت عامہ کی مہم جیسے اقدامات اٹھائے جائیں، خاص طور پر ان لوگوں کے درمیان جنہیں ذیابیطس اور اس کی پیچیدگیوں کا خطرہ لاحق ہے۔لیکن سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آخر ذیابیطس ہے کیا؟ یہ ایک دائمی مرض ہے جو یا تو تب ہوتا جب ہمارا لبلبہ کافی مقدار میں انسولن بنانا بند کردے یا جب ہمارا جسم لبلبے سے بننے والی انسولن کو مؤثر انداز میں استعمال نہ کر پاتا ہو۔ایک مدت تک ذیابیطس بے روک ہونے کے نتیجے میں عام طور پر ہائپر گلے میشیا یا بلڈ شوگر بڑھ جاتا اور ایک وقت کے بعد یہ آپ کے دل، بلڈ ویسلز یا خونی عروق، آنکھوں، گردوں اور اعصاب جیسے جسمانی نظاموں کو کافی حد تک نقصان پہنچاتا ہے جو دائمی مسائل اور موت کا سبب بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  رمضان میں صرف ایک بار یہ چھوٹا سا دم کر لو ، کینسر بھی ہو تو ختم ہو جائے گا

اس کے علاوہ خون کا کم بہاؤ، پیروں میں نیوروپیتھی (نسوں کا کمزور ہونا) پیر میں السر اور انفیکشن کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے جس وجہ سے پیر کاٹنے کی بھی نوبت آ جاتی ہے۔ذیابیطس کے باعث ہونے والی ریٹینو پیتھی (آنکھوں کی بیماری) اندھے پن کی ایک اہم وجہ بنتی ہے۔ یہ بیماری لمبے عرصے سے ریٹینا کے چھوٹے بلڈ ویسلز کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ ہوتی ہے۔ دنیا میں نابینائی کی ایک فیصد وجہ ذیابیطس سے منسوب کی جاسکتی ہے طرز زندگی کی چند عادات ٹائپ دو ذیابیطس کو روکنے میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔

Facebook Comments


Dharti News Headlines 6 PM The list of the most powerful countries in the world has been released | Dharti News Twenty percent of Pakistanis own 50 percent of the country’s wealth | Dharti News Dharti News Bulletin 04:30 PM Local and international News – Dharti News Local and International News Bulletin 12 PM Dharti News Headlines 9:00 AM