ھفتہ 22 جنوری 2022

مصیبت میں انڈین عوام کی مدد کرنا چاہتے ہیں: فیصل ایدھی کا نریندر مودی کو خط

پاکستان کی نجی رفاہی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے نام خط میں کورونا کی بدترین صورتحال کا شکار انڈین عوام کی مدد کی پیشکش کی گئی ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کی جانب سے کی گئی پیشکش میں ’ایمبولینسوں اور رضاکاروں کی ٹیم انڈیا بھیجنے‘ کا کہا گیا ہے۔

فیصل ایدھی کے مطابق اس مصیبت کی گھڑی میں ایدھی فاونڈیشن اور اس کے رضا کار اپنے پڑوسی ملک کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، انڈین عوام کی اس مصیبت کے وقت مدد کرنا چاہتے ہیں، اجازت ملنے کی صورت اپنی خصوصی رضا کار ٹیم کے ساتھ انڈیا روانہ ہو جائیں گے‘۔

خیال رہے کہ انڈیا میں کورونا کی بگڑتی صورتحال اور ایک دن میں نئے کیسز ریکارڈ سطح پر پہنچ جانے کے بعد ہسپتالوں میں آکسیجن اور بیڈز کی شدید قلت نے پریشان کن صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں سوشل ٹائم لائنز پر بھی انڈیا میں کورونا وبا کی صورتحال کے باعث افسردگی اور سوگواریت نمایاں ہے۔ متعدد پاکستانی ٹویپس انڈیا کی موجودہ صورتحال میں وہاں کے مکینوں کو درپیش مشکلات پر اظہار ہمدردری کر رہے ہیں۔

 پاکستان میں ٹوئٹر پر انڈیا میں بگڑتی صورتحال پر درجن بھر ٹرینڈز بنے، جہاں گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی صارفین نے پڑوسی ملک کے مکینوں کے حالات جلد بہتر ہونے کی امید ظاہر کی۔

سعید انور نے آکسیجن لگائے بے بسی سے سڑک پر موجود ایک خاتون کا سکیچ شئیر کرتے ہوئے لکھا ’ انڈیا کے لوگوں کو فراموش نہ کریں جو وطائی صورتحال سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ہماری دعائیں ہمارے انڈین بھائیوں کے ساتھ ہیں‘۔

پاکستان میں رضاکارانہ خدمات فراہم کرنے والے ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے انڈین وزیراعظم کو کورونا کی صورتحال میں مدد کی پیشکش کی گئی ہے۔
پاکستانی ادارے نے انڈین وزیراعظم کے نام خط میں کہا ہے کہ سرحد کھول کر ان کی ایمبولینسوں کو انڈیا آنے کی اجازت دی جائے۔

انڈیا سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین مقامی صورتحال سے پریشان نظر آئے تو پاکستان سے ان کے لیے نیک تمناؤں کے پیغامات بھیجے گئے۔ ٹوئٹر ہینڈل فرمان کنرانی بلوچ لکھتے ہیں کہ اللہ ہمارے پڑوسیوں کا درد کم فرمائے۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہندوستان میں خوفناک صورتحال ہے ،پاکستان سے دعائیں اور سلام۔۔

متعدد پاکستانی ٹویپس نے وزیر اعظم عمران خان سے پڑوسیوں کی مدد کی اپیل کی تو ساتھ ہی پاکستانیوں کو بھی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔ نامی ہینڈل نے لکھا محترم وزیر اعظم کیا ہم ضرورت کے اس وقت میں اپنے پڑوسیوں کی مدد کر سکتے ہیں؟ پیارے پاکستانیو! براہ کرم احتیاطی تدابیر اختیار کریں‘۔

پاکستانی صارفین کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حوصلہ افزا پیغامات سوشل ٹائم لائنز کی زینت بنے تو بہت سے دیگر صارفین نے اس عمل کو سراہا۔ ٹوئٹر صارف سید محمد طیب نے لکھا ’گیٹ ویل سون انڈیا۔۔ پاکستانی قوم آپ کے ساتھ ہے۔ ایک ساتھ مل کر ہم کوڈ کو شکست دے سکتے ہیں‘۔

انڈیا میں وبائی صورتحال کے تشویشناک سطح تک پہنچ جانے کے بعد جہاں مقامی صارفین ایک دوسرے سے گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کر رہے ہیں، وہیں خاصی بڑی تعداد انڈیا کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو صورتحال کی خرابی کا ذمہ داری ٹھہرا رہی ہے۔

کورونا کی بگڑتی صورتحال پر گفتگو کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی اور ان کی ٹیم نے انڈیا میں کورونا کی دوسری لہر کو سنجیدگی سے نہیں لیا، مذہبی تہواروں اور انتخابی جلسوں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ملک اب اتنے مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔

کورونا وائرس کے باعث انڈیا میں تیزی سے بڑھتی اموات کے بعد ایک طرف جہاں قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں میں جگہ کی قلت کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں وہیں طبی مراکز میں آکسیجن کی قلت اور دیگر حادثات میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

Facebook Comments