انٹرٹینمنٹ

جنسی جرائم میں سزا کاٹنے والے ہاروی وائنسٹن کورونا کا شکار

جنسی جرائم میں 23 سال کی سزا کاٹنے والے بدزمانہ ہولی وڈ پروڈیوسر 68 سالہ ہاروی وائنسٹن بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے۔

ہاروی وائنسٹن کو امریکی ریاست نیویارک کی عدالت نے فروری میں خواتین کے ریپ کا مجرم قرار دیا تھا اور انہیں رواں ماہ 11 مارچ کو خواتین کے ریپ کرنے اور ان کی تذلیل کرنے کے جرم میں 23 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ہاروی وائنسٹن کو سزا سنائے جانے کے بعد کچھ وقت کے لیے ہسپتال میں رکھا گیا تھا کیوں کہ انہیں دل کے عارضے سمیت صحت کے دیگر مسائل لاحق تھے جب کہ گزشتہ برس ایکسیڈنٹ ہونے کی وجہ سے بھی انہیں کچھ شکایات تھیں۔

کچھ دن ہسپتال میں رہنے کے بعد ہاروی وائنسٹن کو نیویارک کے رکر آئی لینڈ جیل منتقل کردیا گیا تھا مگر 21 مارچ کو انہیں دیگر قیدیوں اور جیل انتطامیہ کے ساتھ کورونا کے ٹیسٹ کے لیے لے جایا گیا، جہاں ان کا ٹیسٹ مثبت آیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ہاروی وائنسٹن کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہیں علاج کے لیے منتقل کردیا گیا جب کہ ان کے علاوہ جیل انتظامیہ کے 2 عہدیدار بھی کورونا کا شکار ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق جیل انتظامیہ کے پاس حفاظتی آلات کی کمی تھی جس وجہ سے دیگر عہدیداروں کے بھی کورونا کے شکار ہونے کا خدشہ ہے، تاہم 2 عہدیداروں میں کورونا کی تشخیص کے بعد کئی دیگر عہدیداروں کو حفاظتی انتظامات کے پیش نظر قرنطینہ کردیا گیا۔

ہاروی وائنسٹن پر ایشلے جڈ جیسی چوٹی کی اداکاراوں نے بھی الزامات لگائے تھے—فوٹو: فیس بک/ ٹوئٹر
ہاروی وائنسٹن پر ایشلے جڈ جیسی چوٹی کی اداکاراوں نے بھی الزامات لگائے تھے—فوٹو: فیس بک/ ٹوئٹر

دوسری جانب ہاروی وائنسٹن کے وکلا نے اپنے موکل میں کورونا کی تشخیص پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ہر چیز سے بے خبر رکھا جا رہا ہے۔

ہاروی وائنسٹن کے وکلا کے مطابق انہیں ان کے موکل کی بیماری اور کورونا تشخیص سے بے خبر رکھا گیا اور انہیں اس حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔

ہاروی وائنسٹن اور جیل عہدیداروں میں کورونا کی تشخیص کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جیل کے دیگر قیدی اور عہدیدار بھی وبا کا شکار بن گئے ہوں گے اور اسی حوالے سے سخت اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ہاروی وائنسٹن پر پہلی بار اکتوبر 2017 میں کم سے کم 3 درجن خواتین نے ریپ اور جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے جس کے بعد دیگر خواتین بھی سامنے آئیں اور انہوں نے بھی پروڈیوسر پر الزامات لگائے۔

ہاروی وائنسٹن پر خواتین کی جانب سے ریپ اور جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے جانے کے بعد ہی دنیا بھر میں می ٹو مہم کا آغاز ہوا تھا اور ان پر مجموعی طور پر 100 خواتین نے ریپ، جنسی غلام بنانے اور جنسی استحصال کے الزامات لگائے تھے۔

ہاروی وائنسٹن نے خود پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سب کام خواتین کی باہمی رضامندی کے ساتھ کیے تھے۔

انہیں کم سے کم ریپ اور جنسی استحصال کے تین کیسز میں 23 سال کی سزا سنائی گئی، جن کیسز میں انہیں سزا سنائی گئی ان میں سے پہلا کیس 2013 میں ایک ہوٹل کے کمرے میں پیش آیا جس دوران انہوں نے ابھرتی ہوئی اداکارہ جیسیکا من کو ریپ کا نشانہ بنایا۔

انہیں جس دوسرے کیس میں سزا سنائی گئی وہ 2006 میں پیش آیا، جس دوران انہوں نے پروڈکشن اسسٹنٹ مریم ہیلی کو زبردستی جنسی استحصال کا نشانہ بنانیا جب کہ تیسرا کیس 1990 کی دہائی میں پیش آیا، جس دوران انہوں نے اداکارہ اینا بیلا شیورہ کو ان کے اپارٹمنٹ میں ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

ہاروی وائنسٹن پر 100 خواتین نے الزامات لگائے تھے مگر انہیں تین الزامات میں سزا سنائی گئی—فوٹو: یو ایس ٹوڈے
مزید دیکھیں

اس سے متعلق مزید

Leave a Reply

avatar
  سبسکرائب  
نوٹیفیکیشن
Back to top button
Close
Close