انٹرنیشنل

چین میں وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ، 78 نئے کیسز رپورٹ

چین میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 78 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے بڑی تعداد بیرون ملک سے آنے والے افراد کی تھی جس سے ملک میں انفیکشن کی دوسری لہر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق وائرس کے مرکز ووہان سے تقریباً ایک ہفتے تک کوئی نیا کیس سامنے نہ آنے کے بعد پہلا نیا کیس سامنے آگیا جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں 3 مقامی سطح پر پھیلے انفیکشن بھی رپورٹ ہوئے۔

چین کے قومی صحت کمیشن نے بتایا کہ وائرس سے مزید 7 افراد ہلاک ہوگئے، یہ تمام ہلاکتیں ووہان میں ہوئیں۔

منگل کے روز بیرون ملک سے آئے 74 نئے کیسز سامنے آئے جو مارچ کے آغاز سے رپورٹ ہونے والے ڈیٹا کے مطابق ایک روز میں سامنے آنے والے اب تک کے سب سے زیادہ کیسز ہیں اور گزشتہ روز سامنے آنے والے کیسز کے دوگنا ہیں۔

چین میں اب تک کورونا وائرس کے 81 ہزار 553 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 3 ہزار 281 افراد ہلاک اور 73 ہزار 277 صحت یاب ہوچکے ہیں۔

اٹلی میں 602 نئی ہلاکتیں، تعداد 6 ہزار سے تجاوز

اٹلی میں کورونا وائرس سے گزشتہ روز 602 نئی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی جس کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 6 ہزار 77 ہوگئی۔

خیال رہے کہ اٹلی میں ہفتے کو اس بیماری کے نتیجے میں 793 ہلاکتیں ہوئیں جو کسی بھی ملک میں ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں جبکہ اتوار کو یہ تعداد 651 تھی۔

اموات کی تعداد میں اس کمی سے یہ توقع پیدا ہوئی ہے کہ اٹلی میں بحران میں کمی آسکتی ہے تاہم ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔

اٹلی میں وائرس متاثر 7 ہزار 432 صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

نیوزی لینڈ میں لاک ڈاون کی تیاری

نیوزی لینڈ میں ایک ماہ کے لاک ڈاؤن کی تیاری کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم جیسینڈا آرڈرن نے شہریوں سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے رابطہ کم سے کم کرنے پر زور دیا۔

پارلیمنٹ میں نیوز کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے آسان چیز ہے کہ آپ گھر پر رہیں، اس طرح سے ہم زندگیاں بچائیں گے‘۔

نیوزی لینڈ میں اس وقت کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 155 ہے جن میں سے 12 صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

برطانیہ میں ’غیر ضروری‘ دکانوں سروسز کو شٹ ڈاؤن کرنے کا حکم

برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن نے ’غیر ضروری‘ دکانوں اور سروسز کے 3 ہفتوں کے شٹ ڈاؤن اور 2 سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کردی۔

بورس جونسن نے ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں عوام سے ’گھروں میں رہنے‘ کا کہا.

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب عوام ملک بھر میں پارکس میں ہفتے کے اختتام سے لطف اندوز ہورہے تھے جس پر کئی لوگوں نے سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

برطانیہ میں اس وقت تک کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 6 ہزار 726 ہوگئی ہے جبکہ اس سے 336 افراد ہلاک اور 140 صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

امریکی شہری کلوروکوئن لینے سے ہلاک

امریکی شہری کورونا وائرس سے بچنے کے لیے کلوروکوئن فاسفیٹ کو تحفظ دینے والی دوا سمجھ کر کھانے کے بعد ہلاک ہوگیا۔

مذکورہ شخص کی اہلیہ نے بھی کلوروکوئن کھائی جس کے بعد اس کی حالت بھی تشویشناک ہے۔

رپورٹ کے مطابق جو چیز انہوں نے کھائی وہ انسانوں میں ملیریا کا علاج کرنے والی کلوروکوئن کی شکل میں نہیں تھی بلکہ مچھلیوں میں کیڑوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے کی اجزا میں شامل تھی۔

امریکا میں اب تک کورونا وائرس سے 46 ہزار 450 افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 593 افراد اس سے ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

کورونا وائرس میانمار بھی پہنچ گیا

میانمار میں دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان دونوں افراد نے حال ہی میں امریکا اور برطانیہ کا دورہ کیا تھا۔

وزارت صحت کا کہنا تھا کہ 36 سالہ شخص امریکا اور 26 سالہ شخص برطانیہ سے واپس آئے تھے اور ان میں وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خوراک، ادویہ ساز کمپینوں کے سوا تمام صنعتی زونز بند

بیان میں کہا گیا کہ ’ان دونوں مریضوں سے رابطے میں موجود لوگوں کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں‘۔

اتحاد ایئرویز نے 25 مارچ سے تمام پروازیں منسوخ کردیں

اتحاد ایئرویز نے بیرون ملک تمام پروازوں کو منسوخ کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کیا کہ ’آپ نے اگر کنیکٹنگ فلائیٹ ابو ظہبی سے دیگر مقامات کی بکنگ کی ہے تو آپ سفر نہیں کرسکیں گے اور آپ کو ایئرپورٹ نہیں آنا چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ابو ظہبی میں موجود افراد 25 مارچ کی رات رک کر ابو ظہبی سے جاسکیں گے‘۔

متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 198 ہے جن میں سے 2 افراد ہلاک اور 41 صحت یاب ہوچکے ہیں۔

وائرس پر حملہ کرنا ضروری ہے، سربراہ ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ تیدروس آدھانوم نے عوام سے گھروں میں رہنے اور دیگر جسمانی دوری کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور وقت حاصل کرنے کے لیے اہم اقدامات ہیں تاہم یہ دفاعی اقدامات ہیں، آپ کوئی بھی فٹبال کا کھیل صرف دفاع کرکے نہیں جیت سکتے، آپ کو حملہ بھی کرنا ہوگا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جیت کے لیے ہمیں وائرس پر جارحانہ انداز میں اور اہداف کے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے حملہ کرنا ہوگا، ہر مشتبہ شخص کا ٹیسٹ کرنا، آئی سولیشن اور تمام تصدیق شدہ کیسز کی دیکھ بھال کرنا اور قریبی رابطوں کا سراغ لگانا اور انہیں قرنطینہ میں ڈالنا ہوگا‘۔

انہوں نے خبردار کیا کہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے ’تعداد پہلے کیس سے ایک لاکھ کیس تک پہنچنے میں صرف 67 روز لگے، ایک لاکھ سے 2 لاکھ میں صرف 11 روز اور تیسرے لاکھ کے لیے صرف 4 روز لگے‘۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا جہاں صرف چین میں وائرس سے تین ہزار سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔

ابتدائی طور پر یہ وائرس صرف چین تک محدود تھا لیکن بعدازاں یہ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں انتہائی تیزی سے پھیلنے لگا۔

دنیا بھر میں اب تک وائرس سے 16 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 3 لاکھ 82 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زائد افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

مزید دیکھیں

اس سے متعلق مزید

Leave a Reply

avatar
  سبسکرائب  
نوٹیفیکیشن
Back to top button
Close
Close