منگل 05 مارچ 2024

اومیکرون ویرینٹ: بیرون ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو واپسی کی اجازت

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پیش نظر ’سی کیٹیگری‘ میں شامل ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے مختصر مدت کے لیے پابندی ختم کردی ہے۔

خیال رہے کہ این سی او سی نے اومیکرون کے پھیلاو کو روکنے کے لیے 9 ممالک پر سفری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا جس میں بیشتر یورپی ممالک شامل ہیں۔

تاہم نئی پیش رفت کے تحت این سی او سی نے فیصلہ کیا ہے کہ سی کیٹیگری میں شامل ممالک میں پھنسے پاکستانی 31 دسمبر 2021 تک بغیر کسی استثنیٰ کے ملک کے لیے سفر کرسکیں گے۔

اس ضمن میں این سی او سی نے سی کیٹیگری ممالک سے وطن واپس آنے مسافروں کے لیے این آئی سی او پی/ پی او سی لازمی قرار دیا ہے۔

علاوہ ازیں این سی او سی نے واضح کیا کہ ویکسینیشن کارڈ، بورڈنگ سے تقریباً 48 گھنٹے قبل تک کا پی سی آر ٹیسٹ لازمی ہوگا۔

این سی او سی نے کہا کہ ایسے تمام ممالک جہاں کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون موجود ہے وہاں سفر کرنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ کی شرط لازمی ہوگی۔

خیال رہے کہ 6 دسمبر کو این سی او سی نے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پھیلاؤ کے پیش نظر حالات کا جائزہ لیا تھا اور مزید 9 ممالک پر سفری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس میں بیشتر یورپی ممالک شامل ہیں۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ، لیسوتھو، ایسواتینی، موزمبیق، بوٹسوانا اور نمیبیا کے ساتھ ساتھ ہانگ کانگ کے مسافروں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

این سی او سی نے مذکورہ ممالک کی ان باؤنڈ پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

این سی او سی نے ‘سی’ کیٹیگری میں شامل ممالک سے آنے والے مسافروں کے پاکستان میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔

29 نومبر کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ (اومیکرون) جیسے پوری دنیا میں پھیل رہا ہے یہ پاکستان بھی آئے گا، البتہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ہمیں زیادہ سے زیادہ ویکسی نیشن کر کے اس کا خطرہ کم کرنا ہے۔

اسد عمر کے بیان سے چند روز قبل ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا تھا مختلف ممالک سے وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور وہاں میں اس سے مرنے والوں اور شدید متاثر ہو کر ہسپتال پہنچنے والوں کا تعلق ان افراد سے ہے جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی۔

Facebook Comments