پاکستان

ریسٹورنٹ نہ کھلے تو یکم جون سے احتجاج کرینگے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی

آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ ریسٹورنٹ نہ کھلے تو یکم جون سے ملک گیر احتجاج کریں گے۔

نیوز کانفرنس کرتے ہوئے آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین شیخ عبدالوحید کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ہمارے ایک لاکھ سے زیادہ ریسٹورنٹ بند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے 25 لاکھ سے زیادہ ورکرز بے روزگار ہو چکے ہیں، ہم دوسری انڈسٹری سے زیادہ ٹیکس دے رہے ہیں۔

چیئرمین آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن جوائنٹ ایکشن کمیٹی شیخ عبدالوحید کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ممبر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سائیں ملک اعجاز نے کہا کہ پارسل سروس میں 10 فیصد کام بھی نہیں ہے، پارسل سروس ملٹی نیشنل فاسٹ فوڈز کو فائدہ پہنچانے کے لیے شروع کی گئی۔

ممبر جوائنٹ ایکشن کمیٹی محمد فاروق چوہدری نے کہا کہ ہوائی جہاز، ریل، ٹرانسپورٹ، شاپنگ مال، مزار تک کھول دیے گئے، مگر ریسٹورنٹ بند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریسٹورنٹ ملک کے مزدوروں اور غریبوں کے پیٹ بھرنے کا ذریعہ ہیں، ہم 31 مئی تک حکومت کے ساتھ ہیں اس کے بعد ریسٹورنٹ خود کھول لیں گے۔

محمد فاروق چوہدری نے کہا کہ حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو سڑکوں پر بھی آئیں گے، حکومت ہمیں ایک سال کے لیے جی ایس ٹی سے مستثنیٰ قرار دے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی اور گیس کے بلوں میں جی ایس ٹی ختم کیا جائے، کیا صرف ریسٹورنٹ سے ہی کورونا وائرس پھیلے گا؟

ممبر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا کہ ہمیں انڈسٹری تسلیم کر کے ہمارے بارےمیں فیصلہ کیا جائے، ای او بی آئی آئندہ 3 ماہ تک ہمارے بے روزگار ملازمین کو مدد دے۔

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ ریسٹورنٹ ملازمین کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ سوشل سیکیورٹی اسپتالوں سے کرائے جائیں۔

محمد فاروق چوہدری کا یہ بھی کہنا ہےکہ ریسٹورنٹ کی وجہ سے دوسری کئی انڈسٹریاں چلتی ہیں، عید سے پہلے ہمیں کام کی اجازت دے دی جائے۔

مزید دیکھیں

اس سے متعلق مزید

Leave a Reply

avatar
  سبسکرائب  
نوٹیفیکیشن
Back to top button
Close
Close