ھفتہ 22 جنوری 2022

شہباز شریف پر مقدمات کی روزانہ سماعت کی جائے، فواد چوہدری

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ شہباز شریف پر مقدمات کی روزانہ سماعت کی جائے، وہ لندن جائیں گے یا پھر جیل جائیں گے

لاہور میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سال 2022 تک پنجاب کے تمام ڈویژن کو صحت کارڈ دے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے صرف سندھ اس منصوبے کا حصہ نہیں بنا میں وزیر اعلیٰ سندھ سے اپیل کروں کا یہ آپ سندھ کے شہریوں کو بھی صحت کارڈ کے منصوبے سے مستفید کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ فنانس بل میں کی جانے والی ترامیم کا اہم مقصد پاکستان میں ٹیکس کلچر پیدا کرنا ہے، درآمد کی جانے والی چیزوں پر ٹیکس رہے گا دیگر تمام چیزوں پر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے، اس ہماری دوا ساز صنعتیں بھی مستفید ہوں گی۔

انہوں نے وزیر خزانہ شوکت ترین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انٹرٹینمنٹ اور فلم انڈسٹری کو بچانے کے لیے ذبردست اقدامات کیے ہیں، فلم اور سینما سے تمام تر ٹیکس ہٹادیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کی کہانی آپ کی فلم اور ڈرامے دنیا کو بتاتے ہیں جس طرح سے ہم نے اپنے فلم اور ڈرامہ کو ختم کیا ہے اس وجہ پاکستان اپنی تصویر دنیا کو پیش نہیں کر پا رہا ہے، اس لیے اسے بحال کرنا ضروری ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس وقت جو پاکستان کی ریاست ہے اس کو ریاست مدینہ کی طرح بنائیں گے، ریاست مدینہ سے مراد ہے کہ پاکستان میں نچلے طبقے کی مدد کی جائے گی، قانون کا نفاذ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کل آپ نے دیکھا کہ اپوزیشن مین لیڈر شپ ہے وہ اتنی مایوس ہیں کہ ضمنی مالیاتی ترمیمی بل پیش کرنے کےموقع پر اسمبلی میں نہیں آئی، جب انہوں نے انہیں کھڑا کرنے کی کوشش کی توانہوں نے دیکھا کہ مسلم لیگ (ن) کے بہت سے افراد بھی بجٹ کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں، آپ نے دیکھا کہ وہ بکھر گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں حیران ہوں کہ جب خواجہ آصف پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع تھے وہ اقامے پر ایک دبئی کی کمپنی سے تنخواہ لے رہے تھے، ہمیں بتا رہے تھے کہ ملک کی سالمیت کو کس طرح خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ فنانس بل پیش ہونے کے بعد روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے، اس سے مہنگائی کی کمی میں بھی مدد ملے گی، ہماری مقامی پیداوار ہونے والی اشیا کی قیمت میں دیکھی آئی ہے اور دیگر چیزوں میں بھی کمی آئی گی، انٹر نیشنل اشیا ضروریہ کی قیمت میں بھی کمی آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے نواز شریف آرہے تھے، پھر جب ہم نے کہا کہ ہم قدم بڑھائے ہیں تو سارے اپنے بلوں میں گھس گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں لاہور ہائی کورٹ اقدامات اٹھائے اور نواز شریف کو واپس بلائیں، ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ شہباز شریف کے کیسز روزانہ کی بنیاد پر چلائے جائیں۔

انہوں نے لاہور کے میڈیا سے اپیل کی کہ ہماری باتیں سنیں نہ ہی شہباز شریف کی آپ خود کیسز کی کارروائی دیکھیں اور تجزیہ کریں کہ انہوں نے منی لونڈرنگ کی ہے یا نہیں کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہوں نےشہباز شریف لندن جائیں گے یا جیل جائیں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اب پاکستان میں ایسا فیز شروع ہونا والا ہے جس سے اگست ستمبر میں معشیت میں بہتری آئی گی۔

کورونا وائرس ویکسین کا ہدف عبور کرنے پر وفاقی وزیر نے اسد عمر اور این سی او سی کو مبارک بات پیش کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس جیسی وبا سو سال میں ایک بار آتی ہے جیسے پاکستان کی حکومت نے عوام کے ساتھ مل کر شکست دی۔

انہوں نے کہا کہ دی ایکونومکس جیسے آزاد جریدے نے پاکستان کی تعریف کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا جیسے ملک نے سفری پابندی عائد کردی جبکہ سعودی عرب نے بھی ایک بار پھر حج پر پابندی عائد کردی گئی، پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے کورونا کے بعد معیشت مستحکم ہوئی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر نے میر علی میں شہید ہونے والے پاک فوج کے نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوانوں کے لہو سے کی خوشبو سے پاکستان مہک رہا ہے۔

آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 32 ارب ڈالر ہم نے ان تین سالوں میں واپس کیے ہیں اگلے دو سالوں میں ہم نے 55 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں، یہ نواز شریف اور زرداری کی حرکتیں ہیں جو ہمیں وراثت میں ملی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان وزیر اعظم نہ ہوتے تو پاکستان بینک کرپٹ ہوجاتا اگر آج پاکستان ترقی کر رہا ہے تو یہ عمران خان کی وجہ سے ہے، اور یہ معاشی ٹیم کی کامیابی ہے کہ پاکستان اتنا پڑا قرضہ دینے کے بعد اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔

بلاول اور آصف زرداری کے لاہور میں دھرنے دینے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن بھاگی ہوئی ہے، باتیں سے ان سے کی جاتی ہے جو میدان میں ہوں گے۔

جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ والے خود سیاست نہیں کرنا چاہتے ہیں، آپ نے سندھ کے لوگوں کو کیوں صحت کارڈ سے محروم رکھا ہوا ہے، اگر آصف علی زرداری اور بلاول لاہور آنا چاہتے ہیں تو آئیں، یہاں آکر جلسہ کریں ایک مرلےکے گھر میں ان کا جلسہ ہوجائے گا۔

Facebook Comments