ھفتہ 19 ستمبر 2020

وائٹ ہاؤس، مظاہرین کو روکنے کیلئے لگائے کنکریٹ بیریئر ہٹا دیئے گئے

وائٹ ہاؤس، مظاہرین کو روکنے کیلئے لگائے کنکریٹ بیریئر ہٹا دیئے گئے
وائٹ ہاؤس کے جنوبی حصے پر مظاہرین کو روکنے کے لیے لگائے گئے کنکریٹ بیریئر ہٹا دیئے گئے، امریکا میں نسل پرستی کے خلاف انگلینڈ میں مظاہرے کئے گئے، گھٹنے ٹیک کرجارج فلائیڈ خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ امریکا میں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کے قتل کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، بوسٹن شہر میں مظاہرین نے کرسٹوفر کولمبس کے مجسمے سے سر اتار پھینکا، رچمنڈ میں مظاہرین نے ٹرک کی مدد سے کولمبس کا مجسمہ گرا دیا ۔ مظاہرین نے پولیس کے ہاتھوں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے نتیجے میں نسلی عدم مساوات کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی بڑھائی گئی سیکیورٹی میں کمی کردی گئی ہے جنوبی حصے پر لگائے گئے اضافی بیریئرز ہٹا دئیے گئے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیلی مک این اینی نے بتایا کہ امریکا میں پولیس اصلاحات آخری مراحل میں ہیں اور انہیں جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن، مانچسٹر اورہل میں جارج فلائیڈ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مظاہرین نے گٹھنے ٹیک کر 9 منٹ تک خاموشی اختیار کی۔ لیڈز میں مقامی اتھارٹی نےمظاہرے کے دوران برطانوی ملکہ وکٹوریہ کے مجسمے پر لکھے گئے نعروں کی صفائی شروع کردی ہے، نیدرلینڈ زکے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں بھی ہزاروں افراد نے جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا۔ جارج فلائیڈ کے بھائی فلونائز فلائیڈ نے امریکی ا یوان نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاہ فام افراد پر پولیس تشدد کو روکیں۔ جوڈیشری کمیٹی پولیس تشدد اور نسلی ناانصافی سے نمٹنے کے لئے نئی قانون سازی پر کام کررہی ہے جس کا بل متوقع طور پر آئندہ ہفتے ہاؤس میں پیش کر دیا جائے گا۔ امریکی فضائیہ کے پہلے سیاہ فام سربراہ چارلس براؤن نے 5 منٹ کا ویڈیو بیان جاری کیا جس میں وہ بطور افریقی امریکن شہری سروس سے پہلے اور اس دوران پیش آنے والے واقعات بتاتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔