ھفتہ 11 جولائی 2020

ہاکنگ ریڈی ایشنز (بلیک ہول سے بھی معلومات کا اخراج)

ہاکنگ ریڈی ایشنز (بلیک ہول سے بھی معلومات کا اخراج)

بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بلیک ہول یعنی روزنِ سیاہ کو اسٹیفن ہاکنگ نے دریافت کیا تھا جو کہ درست نہیں۔ بلیک ہول (روزن سیاہ) کا تصور پروفیسر ہاکنگ سے پہلے بیسویں صدی کی ابتدا میں ہی پیش کیا جا چکا تھا۔

روزن سیاہ دراصل ایک ایسا پوائنٹ ہے جہاں مادہ اپنی انتہائی کثیف ترین حالت میں ہوتا ہے اور اسی بناء پر اس میں کشش ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اس روزن سے کسی بھی چیز کا انخلاء ممکن نہیں حتی کہ برقی مقناطیسی شعاعیں اور روشنی بھی ایک بار اس میں داخل ہو جائے تو باہر نہیں آ سکتی۔ اسی لیے روزن سیاہ پر سائنس کے عام قوانین کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔

پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ نے دراصل روزن سیاہ پر تحقیق کرتے ہوئے آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت اور کوانٹم میکانیات کے اصولوں کو مشترکہ طور پر استعمال کر کے یہ دریافت کیا تھا کہ روزن سیاہ سے بھی "معلومات" کا شعاعوں کی صورت میں اخراج ہو سکتا ہے۔ ان شعاعوں کو "ہاکنگ ریڈی ایشنز" کا نام دیا گیا۔

پروفیسر ہاکنگ نے اپنی ریاضیاتی مساواتوں سے یہ ثابت کیا کہ روزن سیاہ کے واقعاتی افق (ایونٹ ہورائزن) پر معلومات کا انخلاء ممکن ہے۔ اور اس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ اس میں سے حرارت کا اخراج ہوتا ہے۔ اس اخراج کے باعث یہ روزن سیاہ عمل تبخیر کا شکار ہو کر ایک نا ایک دن ختم ہو جاتے ہیں یا دھماکے سے پھٹ جاتے ہیں۔ 

البتہ یہ عمل بہت آہستگی سے ہوتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ایک بڑے روزن سیاہ کے ختم ہونے کا عمل کائنات کی کل عمر سے بھی زیادہ وقت میں وقوع پزیر ہو سکتا ہے جس کی بناء پر ہاکنگ ریڈی ایشنز کا عملی طور پر پتہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ ہاکنگ نے یہ بھی دریافت کیا تھا کہ نسبتا چھوٹے روزن سیاہ میں یہ عمل تیزی سے وقوع پزیر ہوتا ہے لیکن انہیں کائنات میں سے تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

یہاں ہم قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ روزن سیاہ سے اشعاعی اخراج کو دریافت کرنے کے لیے پروفیسر ہاکنگ نے البرٹ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت اور کوانٹم میکانیات کو مشترکہ طور پر استعمال کیا تھا جو کہ آج بھی طبیعات دانوں کے لیے بہت مشکل کام ہے۔ کیونکہ نظریہ اضافیت کائناتی سطح پر کششِ ثقل اور زمان و مکاں کے تانے بانے پر بحث کرتا ہے جبکہ کوانٹم میکانیات ایٹمز سے بھی چھوٹے ذرات کی سائنس ہے۔ ان دونوں تھیوریز کو یکجا کرنا اسٹیفن ہاکنگ کا ہی خاصہ تھا۔

کوانٹم میکانیات دراصل ذراتی سطح پر یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح ذرات اور ان کے ضد ذرات (پارٹیکلز اور اینٹی پارٹیکلز) مستقل طور پر عدم سے وجود میں آتے ہیں اور پھر جس طرح مثبت اور منفی چارج ایک دوسرے کو کینسل کرتے ہیں اسی طرح یہ ذرات بھی ایک دوسرے کی ضد ہونے کے باعث فنا ہو جاتے ہیں۔ لیکن روزن سیاہ کے واقعاتی افق پر معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ 

فرض کیجیے کہ ذرات کا یہ جوڑا عین واقعاتی افق پر وجود میں آتا ہے جہاں ایک جانب روزن سیاہ کی بے پناہ کشش ہے جس پر سائنسی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا جبکہ دوسری جانب نارمل کائنات ہے جس پر کلاسیکی طبیعات کے قوانین نافذ ہوتے ہیں۔ اب یہ ممکن ہے کہ ان جڑواں ذرات میں سے ایک روزن سیاہ میں گر جائے گا۔ جبکہ دوسرا باہر رہ جائے گا۔ روزن سیاہ کی نذر ہونے والا ذرہ منفی توانائی کا حامل ہو گا جبکہ اس سے اخراج پانے والا مثبت توانائی کا حامل ہو گا۔ 
چونکہ باہر رہ جانے والا ذرہ مثبت توانائی کا حامل ہے اس لیے آپ یہ کہ سکتے ہیں کہ آپ نے روزن سیاہ سے مادے کو کھینچ لیا ہے۔ دراصل مثبت توانائی کے حامل یہ ذرات ہی ہاکنگ ریڈی ایشنز بناتے ہیں۔ 

پروفیسر ہاکنگ کی یہ دریافت اس امید کی بنیاد بنی کی آیندہ آنے والے وقت میں نظریہ اضافیت اور کوانٹم نظریے (جو کہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں) کو یکجا کیا جا سکتا ہے اور ایک بڑے کائناتی نظریے کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر یہ دونوں ایک روزن سیاہ کے واقعاتی افق پر یکجا ہو سکتے ہیں تو کائنات کے کسی بھی مقام کے لیے یکجا ہو سکتے ہیں۔

لیکن تاحال ماہرین طبیعات اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں۔ فی الحال تو ماہرین کے سامنے یہ سوال بھی درپیش ہے کہ کیا ہاکنگ ریڈی ایشنز سے روزن سیاہ کی معلومات کا بھی اخراج ہو سکتا ہے یا نہیں؟

اس بات کو ایک مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ فرض کیجیے ایک روزن سیاہ مکمل طور پر سونے سے بھرا ہوا ہے جبکہ دوسرے میں پِزا بھرا ہوا ہے۔ خیال رہے کہ یہ وہ پزا ہے جسے کھانے کے لیے آپ روزن سیاہ میں نہیں جا سکتے کیونکہ ایک بار چلے گئے تو دوبارہ کبھی باہر نہیں آ سکیں گے ہمیشہ پزا ہی کھاتے رہیں گے   مثال کی جانب واپس آتے ہیں۔۔۔۔ اب گو کہ دونوں میں مختلف مادے بھرے ہوئے ہیں لیکن ان سے باہر آنے والی ہاکنگ ریڈی ایشنز کی مدد سے آپ یہ پتہ نہیں لگا سکتے کہ کس روزن کیا ہو رہا ہے جو کہ کوانٹم اصولوں کے بالکل مخالف ہے۔

کوانٹم میکانیات کے اصول کے مطابق کسی ذرے کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہم اس کی مخصوص حالت کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ اس سے معلومات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ہاکنگ ریڈی ایشنز سے ہمیں بالکل بھی پتہ نہیں چل سکتا کہ روزن سیاہ کے اندر موجود پزے کے ساتھ کیا ہوا؟ اس سے خارج ہونے والی حرارت ہمیں اس کی حالت کا پتہ بتانے سے قاصر ہے۔

اس جیسے کئی دیگر سوالات نے ہاکنگ ریڈی ایشنز کی دریافت کے بعد جنم لیا ہے۔ ماہرین طبیعات ابھی اس بات کو ہی سمجھ نہیں پائے کہ ذرات کی سائنس کوانٹم میکانیات کس طرح کشش ثقل پر بھی اپنے اثرات رکھتی ہے جبکہ پروفیسر ہاکنگ نے ان دونوں کو یکجا کر ہاکنگ ریڈی ایشنز کا تصور بھی دے دیا ہے۔