پیر 06 جولائی 2020

خودکشی کے راستے سے واپس کیسے پلٹیں؟

کیمروں کی چکاچوند، دولت کی فراوانی اورشہرت کی بلندی مگر سوشانت سنگھ پھر بھی خودکشی کر لیتا ہے۔ میڈیاکی گلیمرس دنیا سے یہ کوئی پہلا نام نہیں جس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا ہو۔ رابن ولیمسن، جمان جی کا مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار کا نام کون بھول سکتا ہے۔

انہوں نے بھی اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے ختم کی۔Old Man and the Sea جیساشاہکار ناول تخلیق کرنے والے ارنسٹ ہمینگوے نے بھی اپنی ہیجان خیز زندگی سے مر جانا آسان گردانا۔ The Light House  کی شہرہ آفاق مصنفہ ورجینیا وولف بھی اپنے والد کی وفات کے بعد سے ذہنی دباؤکا سامنا کر رہی تھیں بالآخر1941ء میں ایک تحریر میں انھوں نے اپنی بہن اور خاوند کو لکھا کہ وہ خود کشی کے لئے منظر سے غائب ہو رہی ہیں۔ پھر تین ہفتے گھر سے غائب رہنے کے بعد ان کی لاش سمندر کے کنارے سے ملی۔ جرمنی کے مشہور نازی لیڈر ہٹلر نے اپنی اہلیہ سمیت Red Army کے خوف سے خودکشی کی۔

 

’’ہم دیکھیں گے‘‘ فیض احمد فیض کی نظم اپنے ہر جلسے کی زینت بنانے والے عمر اصغر خان، ائرمارشل اصغر خان کے بیٹے اور جمہوری قومی پارٹی کے بانی نے بھی خود کو پھانسی دے کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ کیمروں کی چکا چوند، دولت کی فراوانی اورشہرت کی بلندی ذہنی سکون کا باعث نہیں۔

سوشانت سنگھ کے کمرے سے ایسی دستاویزات ملی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ڈپریشن کا علاج کرا رہے تھے۔ خودکشی کا ارتکاب کرنے سے ایک رات پہلے ان کے کچھ دوست بھی ان کے گھر مدعو تھے۔ نہ جانے یہ ڈپریشن کا کون سا مقام تھا کہ دوستوں کی موجودگی بھی اسے کم نہ کر سکی۔اگلی صبح 12 بجے تک ان کے نہ جا گنے پر جب کمرے کا دروازہ توڑا گیا تو انھیں مردہ حالت میں پنکھے سے لٹکتا ہوا پایا گیا۔

معاشرے کا وہ فرد جو کامیابی کی معراج تک پہنچتا ہے پھربھی خودکشی جیسے فعل کا مرتکب ہوتاہے تو معاشرے کو رک کے سوچنے کی ضرورت ہے کہ مادی اشیاء کا حصول نہ تو زندگی کا مقصدہے نہ ہی ذہنی سکون کا ذریعہ ۔ ہم جن بڑے بڑے ناموں کی زندگیوں کو کامل سمجھ کر ان جیسی زندگی گزارنے کا خواب دیکھتے ہیں وہ بھی کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں کسی ہیجان کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔گلیمر کی روشنی ان بڑے ناموں کی زندگی کا تاریک پہلو نظر نہیں آنے دیتی۔ ہر کامیابی کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے اور اس کہانی کے کرداروں کوکہانی لکھنے والے سے بہتر اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ ہم عام انسان ان بظاہر کامیاب لوگوں کی کہانیوں کو پڑھتے ہیں مگر ان کی زندگی کی تلخیوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے محتاط اندازے کے مطابق ہر سال خودکشی کا ارتکاب کرکے موت کو گلے لگانے والے لوگوں کی تعداد تقریباً 8لاکھ ہے مگر اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ خودکشی کی کوشش کرنے والے لوگوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق خودکشی سے مرنے والوں کی تعداد قتل ہونے والے افراد سے کہیں زیادہ ہے۔یورپ میں ’جو ہم ایشیا میں رہنے والوں کے لئے جنت ہے‘ خودکشی کا رجحان سب سے زیادہ ہے جبکہ وسطی ایشیا اور مشرقی بحیرہ روم کے قریبی ممالک میں یہ رجحان کم ہے۔

2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال سب سے زیادہ خودکشیاں گرین لینڈ میں کی گئیں، مگر بھارت اور چین کا شمار بھی ان مما لک میں کیا جاتا ہے جہاں اس فعل کا ارتکاب کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس طرح یہ ترقی یا فتہ اور ترقی پزیر دونوں طرح کے مما لک کا سلگتا المیہ ہے۔ دنیا میں سائنس اور جدید ٹیکنا لوجی کے عروج کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے معاشرتی اور معاشی تفاوت اس تیزی سے بڑھی ہے کہ زندگی کا مقصد مادی اشیاء کا حصول گردان لیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پچھلے45 برسوں میں خودکشی کے رجحان میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

یہاں تک کہ اب 15 سے45 سال کے افراد میں یہ موت کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔اس فعل کا ارتکاب کرنے والوں میں بڑی تعداد ڈپریشن یا کسی خوف کا سامنا کر رہی ہوتی ہے۔ اور یہ بھی المیہ ہی ہے کہ معاشرے میں ڈپریشن جیسی بیماری کو بیماری سمجھا ہی نہیں جاتا اس لیے کسی سائیکا ٹرسٹ کے پاس جانا تو اس سے بھی زیادہ بُرا سمجھا جاتا ہے۔ دماغ کو بھی دوسرے جسمانی اعضاء کی طرح سمجھا جانا چاہیے۔ عورت کو جذباتی طور پر کمزور سمجھا جاتا ہے مگر خودکشی کا رجحان عورتوں کی نسبت مردوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق یہ رجحان انسان کے جنیاتی خلیوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ زمانہ قدیم کے انسان میں بھی اس کے رجحان سے انکار نہیں کیا جا سکتاجبکہ ایسی مثالیں موجود ہیں جب کسی انسان نے خودکو خاندان پر بوجھ سمجھ کے اس کا ارتکاب کیا جیسے کہ جنگ کے دنوں میں یا کسی دیوی یا دیوتا کو چڑھاوے دینے کے لئے۔ اس طرح ہم خودکشی کے مذہبی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق مسلمانوں میں خودکشی کا رجحان کم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ عقیدہ ہے کہ خودکشی حرام اور ما یوسی کفر ہے۔ان سب کے علاوہ اس کی معاشی اور معاشرتی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں جیسے کہ خود ساختہ یا معا شرے کی طرف سے ودیعت کردہ تنہائی۔ کسی پیارے کا بچھڑ جانا، معاشی دھچکا، تعلیمی ناکامی، کوئی خاندانی چپقلش وغیرہ۔ وجہ جو بھی ہو ، ہر ریاست کا فرض ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ خودکشی کے طریقوں پر تحقیق کر کے ان کا سدباب کرے۔

دنیا میں سب سے زیادہ خودکشیاں زہر کھانے کی وجہ سے ہو تی ہیں تو ضروری ہے کہ اس کی آسانی سے دستیابی کو روکا جائے لیکن اس کے ساتھ ان معاشرتی اور معاشی وجوہات اور رویوں پر بھی غور کیا جائے جو اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ضرورت کے وقت سائیکا ٹرسٹ کے پاس جانے کو عام بات سمجھا جائے۔ سکول کی سطح سے ہی اگر طالب علموں کو کسی بھی جذباتی بحران سے نمٹنے اور درست فیصلہ سازی کی تربیت دی جائے تو اس کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

زندگی کے سفر میں کامیابی کے پیچھے بھا گتے ہوئے اور دولت کا مینار کھڑا کرتے ہوئے ہم اکثر ایسے انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں جن سے دل کا بوجھ بانٹا جا سکتا ہے۔ اپنے اردگرد ہم اتنی اونچی دیواریں کھڑی کر لیتے ہیں کہ ہم اپنے اندر کی آواز بھی نہیں سن پاتے۔ ہم خود کو چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم کر دیتے ہیں۔

ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لئے سب سے پہلے تو اپنی زندگی میں اپنی لئے وقت نکالیں۔ روز 10 سے20 منٹ چہل قدمی کریں۔ ممکن ہو تو کسی پارک میں چلے جائیں وہاں قدرت کے رنگ دیکھیں۔ پھولوں کی تروتازگی دیکھیں۔ پرندوں کی آوازیں سنیں۔سبزے پر ننگے پاؤں چلیں۔ آپ جی اٹھیں گے۔دن کے کسی وقت میں کم ازکم 10 منٹ خاموشی میں گزاریں۔ہم زندگی کی دوڑ میں خور کو بھول جاتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے کسی غیر ضروری چیز کو رکھ کے بھول جاتے ہیں۔ اپنے اندر کی آوازسنیں۔ خود کو اہم سمجھیں۔ ربٍ کائنات نے کوئی چیز غیر ضروری نہیں بنائی، اس لئے اپنی زندگی کو کوئی مقصد یت دیں۔

اپنی نیند پوری کریں۔ رات سونے کے لئے ہے اور دن جاگنے کے لئیے۔ لاک ڈاؤن ہے تو بھی اپنی روٹین مت خراب کریں۔ رات کو وقت پر سونا ہمارے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے، ہمارے میٹابو لزم کو بہتر بناتا ہے۔وہ لوگ جو چھ گھنٹے سے کم سوتے ہیں ان میں موٹاپے کے امکانات 30 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔اچھی نیند ہمارے موڈ کو اچھا بناتی ہے، دل کے امراض سے بچا تی ہے۔ ہماری Long Term اور Short Termیادداشت کو بہتر بناتی ہے۔اداسی اور ڈپریشن سے بچاتی ہے۔جلد کو تر و تازہ رکھتی ہے۔سونے کے اتنے فوائد ہیں تب ہی تو رب کائنات نے رات بنائی تو کم از کم 8 گھنٹے سونے کی عادت اپنائیں۔

دن میں کم ازکم 2 لٹر پانی پئیں۔ پانی کی اہمیت کا اندازہ یہا ںسے لگا سکتے ہیں کہ ہماری دنیا 71فیصد اور ہمارا جسم60 فیصد پانی سے بنا ہے۔ نظام انہضام، نظام دوران خون اور عصبی نظام کے لئیے پانی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ جسم کا درجہ حرارت معتدل رکھتا ہے۔ موٹاپے سے بچاتا ہے۔جلد کی خوبصورتی اور لچک کو بحال رکھتا ہے تو پانی پئیں اور خوبصورت نظر آئیں۔کتابیں پڑھیں۔ ان سے اچھا کوئی ساتھی نہیں ہے۔ ایک بار آپ خود کو اس ساتھ کے لیے تیار کر لیں آپ کبھی اداس نہیں ہوں گے۔ویسے بھی کتابیں ہمارے علم کی پیاس کو تو بجھاتی ہی ہیں مگر ساتھ ساتھ ہمیں بہتر سوچنا اور بہتر بولنا بھی سکھاتی ہیں۔

خواب دیکھنا مت چھوڑیں۔ خواب ہمیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ زندگی کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کے جینے کی جرات دیتے ہیں۔ معیار زندگی کو بہتربنانے کے خواب دیکھتے ہوئے صرف مادی ترقی کو مدنظر نہ رکھیں۔ یاد رکھیں آپ کے جسم میں ایک روح بھی ہے۔ اس کی تسکین صرف مادی ترقی نہیں کر سکتی۔ماضی کے معاملات پر سوچنا چھوڑ دیں۔

اپنے حال کے ساتھ امن سے رہیں۔ ماضی کی یادیں ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتں۔ آپ اپنے ماضی کو ساتھ رکھیں گے تو اپنے حال سے دوستانہ تعلقات کبھی نہیں بنا پائیںگے۔ زندگی سہل بنائیں، آگے بڑھیں اپنے حال میں جینا سیکھیں۔جو چیزیں آپ کے بس میں نہیں ان کے لئے خود کو ہلکان مت کریں۔

ہر چیز کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ یہ ہی تقدیر اور تدبیر ہے۔ ان کے جھگڑے میں خود کو مت لائیں۔کوشش ضرور کریں کیونکہ زندگی تو کوشش سے ہی عبارت ہے مگر کوشش کے بعد باقی قدرت پر چھوڑ دیں۔ قدرت کبھی آپ سے نا انصافی نہیں کرے گی جتنی کوشش کریں گے اس سے زیادہ ہی نوازے گی۔کسی سے نفرت کے لئے زندگی بہت چھوٹی ہے۔معاف کرنا سیکھیں دوسروں کے لئے نہیں اپنے لئے۔ ہم جب تک دوسروں کو معاف کرنا نہیں سیکھتے ہم ان کی دی ہوئی درد اور تکلیف کو بھی زندگی سے نہیں نکال پاتے تو دوسروں کو معاف کریں اور پر سکون رہیں۔

اپنی زندگی کا دوسروں سے موازنہ مت کریں۔ کسی کے لال منہ کو دیکھ کے تھپڑوں سے اپنے منہ کو لال مت کریں۔ہر شخص کی کہانی دوسروں سے مختلف ہوتی ہے۔ آپ نہیں جانتے کسی دوسرے نے اپنی کہانی کن نشیب و فراز سے گزر کے لکھی ہے۔اپنی کہانی خود لکھیں کسی دوسرے کو اسکے مصنف ہونے کا اعزاز مت دیں۔وقت اچھا ہو یا برا اس کی خا صیت ہے یہ گزر جاتا ہے۔ زندگی میں کچھ بھی ہمیشہ کے لئے نہیں ہے۔اس سے پہلے بھی آپ پر برا وقت آیا ہو گا اگر وہ نہیں رہا تو یہ بھی نہیں رہے گا۔ یاد رکھیں ہر اندھیری رات کی ایک صبح ضرور ہوتی ہے اور ہر صبح اپنے ساتھ اجالے لے کر آتی ہے تو زندگی کے ہر لمحے کو جئیں۔

خود سے محبت کریں آپ پر سب سے زیادہ حق آپ کا ہے۔ خود سے محبت آپ کو پر اعتماد بنائے گی۔آپ کی خوبیوں میں نکھار لائے گی۔آپ کا خود کو عزت دینا دوسروں کی نظر میں آپ کو پر وقار بنائے گا۔ ہر کا میابی پر خود کو شاباش دیں اور ہر نا کامی پر خود کو باور کرائیں کہ گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔خوش رہنا سیکھیں۔ یہ ایک آرٹ ہے۔ بے شک کوئی بھی آرٹ سیکھنا آسان نہیں مگر یقین کریں یہ سب سے آسان آرٹ ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں خوشیاں تلاش کریں۔ زندگی کے سفر کو بڑی بڑی خوشیوں سے موسوم کر کے اسے مشکل نہ بنائیں۔ خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رہنے دیں۔

ہر روز کسی کے لئے کچھ اچھا کریں کیونکہ رب کائنات نے ہمیں اشرف المخلوقات بنا کے بھیجا۔ ہمیں سوچنے، سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت دی۔ اور آخری بات! اپنے رب پر بھروسہ کریں۔وہ آپ سے اس سے زیادہ محبت کرتا ہے جتنی آپ اس سے کرتے ہیں۔وہ کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ وہ کبھی کسی پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔امید مت چھوڑیں۔ ہاتھ اٹھائیں اپنے لئے دعا مانگیں۔ وہ دینے پر قادر ہے۔