ھفتہ 08 اگست 2020

دورہ انگلینڈ میں قومی ٹیم کا جیتنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے

لارڈز ، لندن کے تاریخی اسٹیڈیم کے خوبصورت میڈیا بکس میں 23مئی2018ء کی دوپہر جب میں داخل ہوا تو سابق کپتان قومی ٹیم رمیز راجا اور وقار یونس محو گفتگو تھے، دونوں کے تحفظات ٹھیک ایک دن بعد پاک انگلینڈ سیریز کے پہلے ٹیسٹ کو لے کر نا ختم ہونے والے تھے۔

دونوں کی گفتگو کا اختتام اس بات پر ہوا کہ ٹیسٹ تین دن سے زیادہ نہیں جا سکے گا لیکن 24سے 27مئی 2018ء تک لارڈز پر کھیلے گئے، اس ٹیسٹ میں سب کچھ دو سابق کپتانوں کی گفتگو کے بر خلاف ہوا، میچ میں محمد عباس کی 8/66کی پرفارمینس اور پہلی اننگز میں شاداب خان کی نصف سنچری اور فہیم اشرف کے ساتھ چھٹی وکٹ پر 72رنز کی شراکت نے سرفراز احمد کی قیادت میں ٹیم پاکستان کی 9وکٹ کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

اب پاکستان کرکٹ ٹیم اظہر علی کی قیادت میں تین ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ کی مہمان ہے، وہ انگلینڈ جس نے حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد سیریز دو ایک سے اپنے نام کی ہے۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ میزبان انگلینڈ کی بیٹنگ لائن اپ کو مضبوط نہیں کہا جا سکتا اور انگلینڈ /ویسٹ انڈیز سیریز میں بولرز کی بالادستی اس بات سے ظاہر ہے کہ سیریز میں کوئی سنچری اننگز سامنے نہیں آئی اور پوری سیریز میں صرف آٹھ نصف سنچریاں ہی بن سکیں۔

لیکن اس بات سے قطع نظر انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز شروع ہونے سے قبل گرین شرٹس کے بیٹسمینوں کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں، ایسا کہا جائے، تو لکھنا غلط نہ ہوگا۔

انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ کی سیریز میں پاکستانی بیٹسمینوں کو تجربے کار انگلش اٹیک کا سامنا ہوگا، جیمز اینڈرسن (589)اسٹیورٹ براڈ (501)کی وکٹوں کا مجموعہ 1190ہےاور ان دونوں کا سامنا کرنے سے قبل ڈر بی میں پاکستان کی وہ بیٹنگ لائن اپ جو پہلے ٹیسٹ کے ممکنہ ناموں پر مشتمل ہو گی، اس کا 113رنز پر پویلین لوٹ جانا، حالات کی نزاکت کا خلاصہ کر رہا ہے۔

سری لنکا اور بنگلا دیش کے خلاف ہوم سیریز کی کامیاب اوپننگ جوڑی شان مسعود اور عابد علی کی فارم نے واضح کر دیا ہے کہ سیریز کے تینوں ٹیسٹ میں یہ جوڑی شاید اننگز کا آغاز نہیں کرسکے گی، صرف یہی نہیں ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے قبل ہی مڈل آرڈر بیٹسمین کپتان اظہر علی، بابر اعظم اور اسد شفیق کی انگلینڈ میں کھیلی جانے والی باریاں تشویش میں مبتلا کر رہی ہیں۔

وکٹ کیپر محمد رضوان کی بیٹنگ فارم ایک مثبت پہلو ضرور ہے تاہم ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے پہلے ٹیسٹ کے لیے 20ارکان پر مشتمل اسکواڈ سے افتخار احمد کو نہ رکھ کر کیا غلط فیصلہ کیا ہے؟

یہ سوال اس تناظر میں اہم ہے کہ انگلینڈ /ویسٹ انڈیز سیریز  میں ویسٹ انڈیز کے دائیں ہاتھ کے اسپنر اور مڈل آرڈر بیٹس مین روسٹن چیز نے 10وکٹ لینے کے ساتھ 157رنز بنائے تھے۔

پھر 5اگست سے اولڈ ٹریفورڈ مانچسٹر میں جہاں پاکستان /انگلینڈ کا پہلا ٹیسٹ شروع ہونے جا رہا ہے، اس اسٹیڈیم میں آخری 15ٹیسٹ میں 11 ٹیسٹ میزبان ٹیم کی جیت پر ختم ہوئے ہیں۔

جہاں تک پاکستان کی بولنگ لائن اپ کا سوال ہے، پہلے ٹیسٹ کے لیے محمد عباس، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کا کھیلنا یقینی لگ رہا ہےتاہم ماسوائے شاہین شاہ آفریدی کے عباس اور نسیم کی فارم کا اندازہ ٹیسٹ سیریز کے دوران ہی ہوسکے گا۔

یاسر شاہ کے سر پر 213ٹیسٹ وکٹ لینے کے باوجود خود کو ثابت کرنے کی تلوار لٹک رہی ہے، تو دوسری جانب پریکٹس میچوں میں دو بار اننگز میں پانچ وکٹ کی کارکردگی دکھانے والے 36سال کے سہیل خان پر ٹیم مینجمنٹ اعتماد کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دے رہی، وجہ ہے، دائیں ہاتھ کے تیز بولر سہیل خان کی دوسری اننگز میں بولنگ کرنے کی صلاحیت، جہاں اعداد و شمار سہیل خان پر عدم اعتماد کی بڑری وجہ بنتے دکھائی دیتے ہیں۔

سہیل خان نے 27ٹیسٹ وکٹوں میں صرف تین دوسری اننگز میں بولنگ کرتے حاصل کر رکھی ہیں۔

34سال کے فواد عالم کے پریکٹس میچوں میں بڑی اننگز نہ کھیلنے کی صورتحال نے فی الحال انھیں پہلا ٹیسٹ کھلانے کا کیس کمزور کردیا ہے۔

دورہ انگلینڈ پاکستان ٹیم کے ساتھ چیئر مین پی سی بی ، چیف ایگزیکٹو وسیم خان ، چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے، اس دورے کے نتائج ٹیم کی کارکردگی کے ساتھ بورڈ کے عہدیداروں کے لیے بھی اہمیت کے حامل تصور کیے جارہے ہیں۔