جمعہ 18 ستمبر 2020

بیروت کے اسپتالوں میں دل دہلا دینے والے مناظر

بیروت کے اسپتالوں میں دل دہلا دینے والے مناظر

 بیروت کے اسپتالوں میں دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے ہیں۔بیروت بم دھماکوں سے لرز اٹھا ہے۔اب تک 100 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔جبکہ زخمیوں کی تعداد چار ہزار سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ریڈ کراس نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں کئی گنا اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔لبنان کے وزیر صحت حماد حسن کا کہنا ہے کہ بیروت میں ایک بہت بڑا سانحہ رونما ہوا ہے۔
ہلاکتیں کئی گنا بڑھ سکتی ہیں ہیں، اس وقت شہر کے تمام اسپتالوں زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔گزشتہ روز مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے قریب بیروت کی بندرگاہ کے علاقے میں ہولناک دھماکوں ہوا جس کے نتیجے میں گرد و نواح کے علاقے لرز گئے اور شہر کے مختلف علاقوں کی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔
تباہ ہونے والی عمارتوں میں لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری کا گھر بھی شامل ہے تاہم وہ محفوظ رہے۔

۔دھماکوں کے بعد اسپتالوں سے بھی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آ رہی ہیں جس نے دیکھنے والوں کے دل دہلا دئیے ہیں، اسپتالوں میں ہر طرف لوگوں کی چیخ وپکار سنائی دے رہی ہے ، لا تعداد مریض زخمی حالت میں فرش پر پڑے دکھائی دے رہے ہیں۔
۔ابق روسی ٹی وی کی رپورٹ میں بیروت دھماکوں کو لبنان کی تاریخ کا سب سے خوفناک واقعہ قرار دیا گیا ہے۔
جبکہ بیروت کے مقامی میڈیا کی جانب سے بھی اس واقعے کو لبنان کی تاریخ کا خوفناک ترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے لبنان کے سیکورٹی چیف نے بھی بیان جاری کیا ہے۔ جاری بیان میں ان کا کہنا ہے کہ بیروت کی بندرگاہ پر واقع اسلحے کے گودام میں دھماکے ہوئے۔ گودام میں کئی سال سے اسلحہ پڑا ہوا تھا، جو منگل کے روز دھماکوں کی وجہ بنا۔