جمعرات 03 دسمبر 2020

پی ٹی اے کا ٹوئٹر سے پاکستان مخالف غلط معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس کےخلاف کارروائی کا مطالبہ

پی ٹی اے کا ٹوئٹر سے پاکستان مخالف غلط معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس کےخلاف کارروائی کا مطالبہ

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے پاکستان کے خلاف غلط معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اتھارٹی نے ٹوئٹر انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ مواد کو اعتدال پر رکھنے والی اپنی ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ پلیٹ فارم غلط معلومات کے پھیلاؤ کے لیے پروپیگنڈا ہتھیار کے طور پر استعمال نہ ہو۔

بیان میں کہا گیا کہ پی ٹی اے نے پاکستان، اس کے شہروں اور اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے غلط اور بے بنیاد معلومات پھیلانے کی موجودہ مہم کے تناظر میں ٹوئٹر پر زور دیا ہے کہ وہ اس مہم میں شامل ہینڈلرز کو مؤثر طریقے سے بلاک کرے۔

اتھارٹی کا کہنا تھا کہ یہ بات مایوس کن ہے کہ بے بنیاد معلومات کے پھیلاؤ میں ٹوئٹر کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس بھی شامل ہیں، لیکن وہ اب بھی استثنیٰ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

پی ٹی اے نے پلیٹ فارم سے کہا ہے کہ وہ اپنے اصولوں اور پالیسیوں کے مطابق ایسے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کرے۔

قبل ازیں حکومتی وزرا نے بھارتی میڈیا کے ان مضحکہ خیز دعوؤں کی نشاندہی کر کے ٹوئٹر کی انتظامیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جس میں کہا جارہا تھا کہ کراچی میں ’خانہ جنگی‘ شروع ہوگئی ہے۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ٹوئٹر ’جان بوجھ کر‘ بھارتی میڈیا کی پاکستان کے حوالے سے جھوٹی خبروں کو نظر انداز کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا اپنے عروج پر ہے اور اس ’سرکس‘ میں پی ڈی ایم نے ایندھن شامل کیا۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے بھی بھارتی میڈیا میں ’بدنیتی پر مبنی اور من گھڑت خبروں اور پروپیگنڈا مہم‘ کا نوٹس لیا۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے جنون میں مبتلا بی جے پی-آر ایس ایس حکومت کی ایما پر بھارتی میڈیا کی اس قسم کی کوششیں ایک مخصوص اور جانے پہچانے مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتی ہے‘۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی مختلف مواقع پر پاکستان کی جانب سے ٹوئٹر سے ملک کے خلاف غلط معلومات پھیلانے والے مواد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت کی جانب سے مواد ہٹانے سے متعلق درخواستوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

نومبر 2019 میں ٹوئٹر کی جانب سے جاری کی گئی ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں کہا گیا کہ جنوری 2019 سے جون کے درمیان حکومت نے مواد ہٹانے سے متعلق 273 درخواستیں ارسال کیں اور ٹوئٹر کو ایک ہزار 798 پروفائلز رپورٹ کیں جس میں 2 ہزار 300 کی تعداد سے کمی ہوئی لیکن اکاؤنٹ کی معلومات سے متعلق درخواستوں میں اضافہ ہوا۔

ٹوئٹر نے کسی بھی اکاؤنٹ کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا بلکہ ٹوئٹر کی ٹرمز آف ریفرنس کی خلاف ورزی کرنے پر 234 اکاؤنٹس کا کچھ مواد ہٹایا گیا۔

اس سے قبل جولائی تا دسمبر 2018 میں ٹوئٹر نے 204 اکاؤنٹس کا مواد ہٹادیا تھا۔

2018 کے آخری 6 ماہ میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ایسی 192 درخواستیں جبکہ عدالتی حکم کے ذریعے ایک درخواست بھیجی گئی تھی۔

رواں سال ستمبر کے اوائل میں جاری ششماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ نے پاکستان کی جانب سے مواد تلف کرنے کی درخواستوں پر عمل کرنا شروع کردیا ہے جو گزشتہ برس نہیں ہوا تھا۔

جولائی تا دسمبر 2019 کے عرصے میں عدالتی حکم کے ذریعے مواد ہٹانے کا کوئی قانونی مطالبہ نہیں کیا گیا تاہم ٹوئٹر کا کہنا تھا کہ اس نے اس عرصے کے دوران 35.2 فیصد تعمیلی شرح کے ساتھ عمل کیا۔