جمعرات 03 دسمبر 2020

سبزچائے اور کافی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید مشروبات

سبزچائے اور کافی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید مشروبات

ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریض اگر سبز چائے یا کافی پینا عادت بنالیں تو وہ کسی بھی سبب سے موت کا خطرہ 63 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔ یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ خیال رہے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو دنیا میں وبا کی طرح پھیلنا والا ایسا مرض ہے جس کے شکار افراد کی تعداد 42 کروڑ سے زیادہ ہے۔ اگرچہ ادویات سے ذیابیطس سے جڑے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے مگر ماہرین کا ماننا ہے کہ طرز زندگی میں تبدیلیاں لانا اسے کنٹرول کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، جیسے صحت بخش غذا، جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہنا اور تمباکو نوشی سے بچنا۔ حالیہ برسوں میں متعدد سائنسدانوں نے سبز چائے کے فوائد پر کام کیا ہے اور دریافت کیا کہ اس گرم مشروب کو پینے سے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ سبز چائے پینے سے گلوکوز کنٹرول اور انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے، تاہم اب تک ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اس گرم مشروب کے فوائد پر اب تک زیادہ کام نہیں ہوا۔ جاپان کی کیوشو یونیورسٹی، فوکوکا ڈینٹل کالج اور ہاکوجیو ہاسپٹل کی اس تحقیق میں ذیابیطس کے مریضوں پر سبزائے اور کافی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ طبی جریدے بی ایم جے اوپن ڈائیبٹیس ریسرچ اینڈ کیئر پر شائع تحقیق میں لگ بھگ 5 ہزار ذیابطیس ٹائپ ٹو کے مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق کا ڈیٹا استعمال کیا، جس میں ادویات اور طرز زندگی کے بیمااری پر اثرات کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ اس تحقیق میں شامل افراد سے مختلف طرح کی تفصیلات جیسے بیماریوں، ورزش کے دورانیے، تمباکو نوشی کی عادت، نیند کے دورانیے، جسمانی وزن، بلڈ پریشر اور ڈپریشن کی علامات کے بارے میں جانا گیا۔ خصوصاً ان افراد کی غذائی عادات بشمول کافی اور سبزچائے کے استعمال کی تفصیلات بھی حاصل کی گئیں۔ محققین نے ان رضاکاروں کا جائزہ اوسطاً ساڑھےت 5 سال تک لیا اور اس عرصے میں 309 افراد ہلاک ہوگئے۔ تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ جو لوگ روزانہ ایک کپ سے زیادہ سبزچائے یا کافی پینے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ ان مشروبات سے گریز کرنے والوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ خاص طور پر روزانہ 4 یا اس سے زیادہ کپ سبزچائے یا 2 یا اس سے زیادہ کافی کے کپ پینے کی عادت سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 63 فیصد تک کم کردیتی ہے۔ مختلف عناصر کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی محققین کا کہنا تھا کہ سبزچائے اور کافی کا زیادہ استعمال کسی بھی وجہ سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں میں موت کا خطرہ کم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ 2 یا اس سے زیادہ کپ کافی پینے والے افراد میں موت کا خطرہ 41 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ 4 کپ یا اس سے زیادہ سبزچائے نوش کرنے والوں میں یہ خطرہ 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ تاہم دونوں مشروبات جیسے 4 کپ یا اس سے زیادہ سبز چائے اور 2 کپ یا اس سے زیادہ کافی کا اکٹھے استعمال موت کا خطرہ 63 فیصد تک کم کرتا ہے۔

ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریض اگر سبز چائے یا کافی پینا عادت بنالیں تو وہ کسی بھی سبب سے موت کا خطرہ 63 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

خیال رہے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو دنیا میں وبا کی طرح پھیلنا والا ایسا مرض ہے جس کے شکار افراد کی تعداد 42 کروڑ سے زیادہ ہے۔