پاکستان

کورونا وائرس: بینک جراثیم سے پاک، قرنطینہ کی گئی نقد رقم فراہم کریں گے

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہسپتالوں اور کلینکس سے وصول کی جانے والی تمام کرنسی کو صاف، جراثیم سے پاک (ڈس انفیکٹڈ)، سیل اور قرنطینہ کریں اور اسے سرکلولیشن سے روکیں۔

 دھرتی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر کی سربراہی میں بینکوں کے ساتھ بذریعہ ویڈیو لنک ایک اجلاس ہوا جس میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن کے تناظر میں کلائنٹس کو بلا تعطل سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانے کا جائزہ لیا گیا۔

اس اجلاس کے بعد جاری ایک بیان کے مطابق بینکوں کی جانب سے فٹ، تصدیق شدہ اور ڈس انفیکٹڈ نقدی کے اجرا کی ضرورت کو تسلیم کیا جارہا ہے اور اسٹیٹ بینک کی طرف سے تفصیلی ہدایات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ بینکس ہسپتالوں سے یومیہ وصول ہونے والی اس رقم کے بارے میں رپورٹ دیں گے، جو بعد میں اتنی رقم ہی اکاؤنٹ کے لیے فراہم کرے گا تاکہ اسے قرنطینہ کیا جائے۔

مذکورہ بیان کے مطابق مزید برآں بینکوں کو کافی حد تک نئے یا ڈس انفیکٹڈ نقدی فراہم کرنے کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں تاکہ وہ صارفین کو نئی رقم یا دوبارہ جاری کی گئی رقم دینے کے قابل ہوسکیں جو کم از کم 15 روز کے لیے قرنطینہ میں ہیں۔

علاوہ ازیں بینکوں کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس اتنی تعداد میں کیش موجود ہے اور وہ اس سلسلے میں تمام ضروریات پر پورا اترے گا۔

تاہم ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی گئی کہ بینکوں کی جانب سے مسلسل اور ہروقت اے ٹی ایمز کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور تمام کال سینٹرز اور ہیلپ لائنز پورے ہفتے 24 گھنٹے کام کریں۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا کہ برانچز کی بڑے پیمانے پر بندش آپریٹو برانچز میں رش اور بھیڑ کو بڑھا سکتی ہے جو اس وبا کو روکنے کی کوششوں کے منافی ہوسکتا ہے۔

مزید برآں یہ بھی کہا گیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران برانچز کا دورہ کرنے والے صارفین کی بیناد پر کچھ دنوں میں تمام صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

ساتھ ہی کہا گیا کہ بینکس اگر اپنے کلائنٹس کو بہتر سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں تو اپنی برانچز کا آپریشن صبح 10 بجے سے شروع کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا بھر سمیت پاکستان میں تیزی سے پھیلتے کورونا وائرس کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے پہلے نقد رقم کے استعمال سے بچنے کے لیے آن لائن بینکنگ کے ذریعے رقم کی منتقلی پر تمام چارجز ختم کردیے تھے۔

مرکزی بینک کی جانب سے اس قدم کا مقصد وائرس کے پھیلاؤ کے دوران بینک اسٹاف اور صارفین کے درمیان نقد کے استعمال کو کم سے کم کرنا تھا۔

واضح رہے کہ اب تک پاکستان میں اس وائرس سے 878 افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ ملک میں اموات کی تعداد 6 ہے۔

مزید دیکھیں

اس سے متعلق مزید

Leave a Reply

avatar
  سبسکرائب  
نوٹیفیکیشن
Back to top button
Close
Close