ھفتہ 22 جنوری 2022

پاکستانی کمپنی کا عرب امارات میں تیل و گیس کی تلاش کیلئے تاریخی معاہدہ

uae-oil

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کی قیادت میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے 4 سرکاری اداروں کے ایک کنسورشیم، ابوظبی میں آف شور بلاک 5 کی ایک بڑی ایکسپلوریشن اوپننگ حاصل کرنے میں کامیاب رہا جس میں 40 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔

  کنسورشیم کو ابوظبی کے دوسرے مسابقتی ایکسپلوریشن بلاک کی بولی کے مرحلے میں آف شور بلاک 5 سے نوازا گیا۔

بلاک کے آپریٹر کے طور پر کنسورشیم کی رہنمائی کرنے والی کراچی کی پی پی ایل کا کہنا تھا کہ آف شور بلاک 5 کا رقبہ 6 ہزار 233 مربع کلومیٹر ہے اور یہ ابوظبی شہر سے 100 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

کنسورشیم میں شامل کمپنیوں کے 25، 25 فیصد حصص ہیں جس میں ملک کی سب سے بڑی ہائیڈرو کاربن کی پیداواری کمپنی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ لمیٹڈ (او جی ڈی ایل)، ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ (ایم پی سی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) شامل ہیں۔

یہ امارت کا دوسرا مسابقتی مرحلہ تھا جس کا اہتمام اے ڈی ای او سی نے تیل اور گیس کی تلاش، ترقی اور پیداوار کے لیے کیا تھا۔

یہ تاریخی معاہدہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے مابین گہرے دوطرفہ تعلقات پر استوار ہے۔

معاہدے کے تحت بلاک میں تیل اور گیس کے امکانات تلاش اور تشخیص کرنے کے لیے ایکسپلوریشن کے مرحلے میں کنسورشیم کا حصہ 100 فیصد ہوگا۔

ایکسپلوریشن مرحلے کے دوران کامیاب کمرشل دریافت کی صورت میں کنسورشیم کو کمرشل دریافتیں کرنے اور رعایتی پیداوار کا حق حاصل ہوگا۔

معاہدے کے مطابق اے ڈی این او سی کے پاس رعایتی پیداواری مرحلے کے دوران 60 فیصد حصص حاصل کرنے کا آپشن ہوگا جبکہ تیل و گیس کی تلاش کا مرحلہ شروع ہونے سے لے کر پیداواری مرحلے کی مدت 35 برس ہے۔

پی پی ایل کے مطابق یہ رعایتی ایوارڈ پاکستانی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں کے لیے اے ڈی این او سی کے ساتھ تزویراتی اشتراک کے ساتھ ابوظبی میں تیل اور گیس کے وسائل کی تلاش، تشخیص اور ڈیولپمنٹ کا پہلا موقع ہے۔

کنسورشیم نے بولی کے ذریعے بلاک حاصل کیا تھا جس کے باضابطہ معاہدے پر حکومت کی جانب سے 40 کروڑ ڈالر کی آف شور سرمایہ کاری کی منظوری دینے کے بعد دستخط کیے گئے تھے۔

Facebook Comments