منگل 26 جنوری 2021

دوران حمل ماں کا تناؤ بچے میں بعد کی زندگی میں جلد بڑھاپے کا خطرہ بڑھائے

دوران حمل ماں کا تناؤ بچے میں بعد کی زندگی میں جلد بڑھاپے کا خطرہ بڑھائے

کچھ لوگوں کو دیگر کے مقابلے میں قبل از وقت بڑھاپے کا سامنا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔

مگر اب ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایسا بچے کی پیدائش سے قبل ماں کا تناؤ ہوسکتا ہے جو بچے کی حیاتیاتی عمر کی رفتار کو تیز کرسکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں ایسے شواہد دریافت کیے گئے کہ حمل کے دوران ماں کا تناؤ منفی انداز سے بچے کے ٹیلومیئرز پر اثرانداز ہوتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر ہمارے جسم کے اندر عمر بڑھنے کے ساتھ تنزلی آتی ہے جس کی وجہ ڈی این اے کے سیکونسز ہوتے ہیں جن کو ٹیلو میئرز کہا جاتا ہے۔

ٹیلومیئرز انسانی کروموسوم کے پروٹین کیپ ہوتے ہیں جن کی لمبائی عمر بڑھنے کے ساتھ گھٹنے لگتی ہے۔

ٹیلومیئرز کی لمبای گھٹنے سے کینسر، دل کی شریانوں کے امراض اور دیگر بیماریوں کے اتھ جلد موت کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے نتاج طبی جریدے جرنل Psychoneuroendocrinology میں شائع ہوئے۔

تحقیقی ٹیم کی قائد جوڈتھ کیرول نے بتایا کہ بڑھاپے پر تحقیق کے دوران اب تک چند عناصر کی شناخت ہوئی ہے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کسی فرد میں بڑھاپے کی جانب سفر تیز کیوں ہوجاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری تحقیق میں معلوم ہوا کہ بچپن کا ماحول اور ماں کا تناؤ بھی کسی فرد کے بڑھاپے کی جانب سفر کو تیز کرسکتے ہیں۔

اس سے پہلے بھی متعدد تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ حمل کی پہلی اور تیسری سہ ماہی کے دوران ماں کا تناؤ نومولود کے ٹیلومیئرز کی لمبائی پر اثرانداز ہوتا ہے مگر اس نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ حمل سے قبل بھی تناؤ کا شکار رہنے سے ایسا ہوتا ہے۔

خاص طور پر حمل کی تیسری سہ ماہی کے دوران ماں کے تناؤ سے بچے کے ٹیلومیئرز گھٹنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں 111 ماؤں اور ان کے بچوں کو شامل کیا گیا تھا اور ان کے جینیاتی نمونوں کی جانچ پڑتال کرکے خواتین میں دوران حمل تناؤ کے بارے میں معلوم کیا گیا تھا۔

محققین نے یہ واضح نہیں کیا کہ ماں کا تناؤ بچے کی خلیاتی عمر پر اثرانداز کیوں ہوتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے چند امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تناؤ کے نتیجے میں ورم اور میٹابولک سرگرمی متحرک ہوتی ہے اور ان دونوں سے ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے۔