جمعرات 21 جنوری 2021

سعودی عرب : امریکی مسلمان کا انوکھا کارنامہ، سننے والوں کو خوشگوار حیرت

سعودی عرب : امریکی مسلمان کا انوکھا کارنامہ، سننے والوں کو خوشگوار حیرت
مملکت میں رہتے ہوئے سعودی عرب کی روشن تصویر اپنے ہم وطنوں کے سامنے پیش کروں۔ ___ فائل فوٹو :

 ریاض : سعودی عرب میں جنم لینے والے امریکی نژاد نوجوان محمد فلود نے سعودی لب ولہجے میں عربی بول چال میں مہارت حاصل کرلی- وہ سعودی عرب کا قومی ترانہ یاد کیے ہوئے ہے جبکہ انہیں امریکہ کا قومی ترانہ نہیں آتا۔

سعودی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نوجوان نے کہا کہ مجھے سب سے ملنا جلنا اچھا لگتا ہے، سعودی عرب کے ہر علاقے کے لوگ میرے دوست ہیں۔ مجھے نہ صرف یہ کہ نجدی لب ولہجے میں عربی آتی ہے بلکہ حجازی لہجے میں روانی سے بات کرتا ہوں۔

شمالی سعودی عرب کا لہجہ بھی مجھے بہت اچھا آتا ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ سعودی عرب کا کوئی اہم لہجہ ایسا نہیں جو مجھے اچھی طرح سے نہ آتا ہو۔

محمد فلود سے دریافت کیا گیا کہ آپ امریکہ جاسکتے ہیں آپ کا وطن ہے وہاں آپ ملازمت کرسکتے ہیں اس کے باوجود بھی آپ سعودی عرب میں کیوں مقیم ہیں؟

محمد فلود نے کہا کہ بزنس مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی- فیکلٹی سے اچھی پوزیشن لے کر کامیاب ہوا ہوں- ڈگری ملنے سے پہلے ہی مجھے ملازمتوں کی پیشکش ہوگئی تھی- میں نے سوچا کہ مملکت میں پلا بڑھا ہوں۔ یہاں کے طور طریقے اور رسم و رواج میں اپنا چکا ہوں لہذا ملازمت بھی یہیں کروں گا- میں چاہتا ہوں کہ مملکت میں رہتے ہوئے سعودی عرب کی روشن تصویر اپنے ہم وطنوں کے سامنے پیش کروں۔

مزید پڑھیں : جدہ میں پاکستانی آم کی دھوم

محمد فلود نے مزید بتایا کہ انہیں سعودی عرب سے تعلق صرف اس وجہ سے نہیں کہ وہ یہاں پیدا ہوا ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کو اچھی طرح سے جان چکا ہے، میرے گھر والوں نے مجھے آزادی دے رکھی تھی کہ ان کے ساتھ امریکہ میں رہوں یا سعودی عرب میں رہائش اختیار کرلوں میں نے امریکہ پر سعودی عرب کو ترجیح دی۔

محمد فلود نے بتایا کہ جب میں سعودی عرب پہنچا تو کورونا کی وبا بھی اسی زمانے میں پھیل گئی۔ میری زندگی کے اپنے پروگرام اور سکیمیں ہیں- امریکہ میں رہ چکا ہوں لیکن سعودی ثقافت کا دلدادہ ہوں- مشرقی ریجن میں پیدا ہوا تھا- حجاز میں پلا بڑا اور ان دنوں نجد اور ریاض میں رہ رہا ہوں۔

محمد فلود نے بتایا کہ امریکی اپنے وطن سے نکلنے کے بعد غیرملکی دنیا کو زیادہ بہترشکل میں سمجھ پاتے ہیں، وہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی ریاست کا باشندہ سمجھتے ہیں- جو سعودی نوجوان اعلی تعلیم کے لیے امریکہ گئے انہوں نے وہاں بڑا کارنامہ انجام دیا- انہوں نے سعودی عرب کی حقیقی روشن تصویر اہل امریکہ کے سامنے رکھی۔

محمد فلود سے نجی زندگی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وہ سعودی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔